Best Sawan Bhadoon Barish Paani Poetry | Amazing Heart Touching shayri abot mosam

ہر سمت سمندر ہے ہر سمت رواں پانی
چھاگل ہے مری خالی سوچو ہے کہاں پانی

بارش نہ اگر کرتی دریا میں رواں پانی
بازار میں بکنے کو آ جاتا گراں پانی

خود رو ہے اگر چشمہ آئے گا مری جانب
میں بھی وہیں بیٹھا ہوں مرتا ہے جہاں پانی

کل شام پرندوں کو اڑتے ہوئے یوں دیکھا
بے آب سمندر میں جیسے ہو رواں پانی

جس کھیت سے دہقاں کو مل جاتی تھی کچھ روزی
اس کھیت پہ دیکھا ہے حاکم ہے رواں پانی

چشمے کی طرح پھوٹا اور آپ ہی بہہ نکلا
رکھتا بھلا میں کب تک آنکھوں میں نہاں پانی

بہہ جاتی ہے ساتھ اس کے شہروں کی غلاظت بھی
جاروب کش عالم لگتا ہے رواں پانی

بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے

فاروق کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی



 

فِراق یار کی بارش، ملال کا موسم
ہمارے شہر میں اُترا کمال کا موسم

وہ اِک دُعا! جو مِری نامُراد لوٹ آئی
زباں سے رُوٹھ گیا پھر سوال کا موسم

بہت دِنوں سے مِرے ذہن کے دریچوں میں 
ٹھہر گیا ہے تمھارے خیال کا موسم

جو بے یقیں ہوں بہاریں، اُجڑ بھی سکتی ہیں
تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم

محبتیں بھی تِری دُھوپ چھاؤں جیسی ہیں
کبھی یہ ہجر، کبھی یہ وصال کا موسم

 



ساتھ بارش میں لیے پھرتے ہو اس کو انجمؔ




ساتھ بارش میں لئے پھرتے ہو اس کو انجمؔ

تم نے اس شہر میں کیا آگ لگانی ہے کوئی

 

آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو



آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

 






حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

 

ہمارے شہر آجاؤ صدا برسات رہتی ہے

ہمارے شہر آجاؤ صدا برسات رہتی ہے

کبھی بادل برستے ہیں کبھی آنکھیں برستی ہیں

 




Post a Comment

0 Comments