Faiz Ahmed Faiz New beautiful poetry images shayri whatsapp status tiktok stories

 


*جس دیس سے ماؤں بہنوں کو*

*جس دیس سے ماؤں بہنوں کو*


*اغیار اٹھا کر لے جائیں*


*جس دیس سے قاتل غنڈوں کو*


*اشراف چھڑا کر لے جائیں*


*جس دیس کی کورٹ کچہری میں*


*انصاف ٹکوں پر بکتا ہو*


*جس دیس کا منشی قاضی بھی*


*مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو*


*جس دیس کے چپے چپے پر*


*پولیس کے ناکے ہوتے ہوں*


*جس دیس کے مندر مسجد میں*


*ہر روز دھماکے ہوتے ہوں*


*جس دیس میں جاں کے رکھوالے*


*خود جانیں لیں معصوموں کی*


*جس دیس میں حاکم ظالم ہوں*


*سسکی نہ سنیں مجبوروں کی*


*جس دیس کے عادل بہرے ہوں*


*آہیں نہ سنیں معصوموں کی*


*جس دیس کی گلیوں کوچوں میں*


*ہر سمت فحاشی پھیلی ہو*


*جس دیس میں بنت حوا کی*


*چادر بھی داغ سے میلی ہو*


*جس دیس میں آٹے چینی کا*


*بحران فلک تک جا پہنچے*


*جس دیس میں بجلی پانی کا*


*فقدان حلق تک جا پہنچے*


*جس دیس کے ہر چوراہے پر*


*دو چار بھکاری پھرتے ہوں*


*جس دیس میں روز جہازوں سے*


*امدادی تھیلے گرتے ہوں*


*جس دیس میں غربت ماؤں سے*


*بچے نیلام کراتی ہو*


*جس دیس میں دولت شرفاء سے*


*نا جائز کام کراتی ہو*


*جس دیس کے عہدیداروں سے*


*عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں*


*جس دیس کے سادہ لوح انساں*


*وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں*


*اس دیس کے ہر اک لیڈر پر*


*سوال اٹھانا واجب ہے*


*اس دیس کے ہر اک حاکم کو*


*سولی پہ چڑھانا واجب ہے*


فیض احمد فیض




 


راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا

دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے

ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے

سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا

فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی

عشق کو آزما کے دیکھ لیا

 



ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا

صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا

گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں

مرے قاتل حساب خوں بہا ایسے نہیں ہوتا

جہان دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں

یہاں پیمان تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا

ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے

مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا

رواں ہے نبض دوراں گردشوں میں آسماں سارے

جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا

 


نہ سننے میں نہ کہیں دیکھنے میں آیا ہے

جو ہجر و وصل مرے تجربے میں آیا ہے

نئے سرے سے جل اٹھی ہے پھر پرانی آگ

عجیب لطف تجھے بھولنے میں آیا ہے

نہ ہاتھ میرے نہ آنکھیں مری نہ چہرہ مرا

یہ کس کا عکس مرے آئنے میں آیا ہے

جواز رکھتا ہے ہر ایک اپنے ہونے کا

یہاں پہ جو ہے کسی سلسلے میں آیا ہے

ہے واقعہ ہدف سیل آب تھا کوئی اور

مرا مکان تو بس راستے میں آیا ہے

وہ راز وصل تھا جو نیند میں کھلا مجھ پر

یہ خواب ہجر ہے جو جاگتے میں آیا ہے

جمالؔ دیکھ کے جیتا تھا جو کبھی تجھ کو

کہیں وہ شخص بھی کیا دیکھنے میں آیا ہے

 


حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے

دشت امید میں گرداں ہیں دوانے کب سے

دیر سے آنکھ پہ اترا نہیں اشکوں کا عذاب

اپنے ذمے ہے ترا قرض نہ جانے کب سے

کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب

درد آیا نہیں دربار سجانے کب سے

سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل

ڈھونڈتا ہے دل شوریدہ بہانے کب سے

پر کرو جام کہ شاید ہو اسی لحظہ رواں

روک رکھا ہے جو اک تیر قضا نے کب سے

فیضؔ پھر کب کسی مقتل میں کریں گے آباد

لب پہ ویراں ہیں شہیدوں کے فسانے کب سے

 


تو کہاں جائے گی یوں آنکھ بچا کر اس سے

اب بچھڑناہے تو پھر خود کو جدا کر اس سے

وہ بگڑتا ہے تو دنیا ہی بگڑ جاتی ہے

اس لئے رکھنی پڑی مجھ کو بنا کر اس سے

توکہانی میں کہیں ہے کہ نہیں ہے اے دل

پوچھنا ہو گا کسی روز بٹھا کر اس سے

کس طرح اس پہ ترے درد کا منظر کھلتا

تو محبت بھی تو کرتی تھی چھپا کر اس سے

جس طرح لہر کنارے کو چھوئے آخری بار

ایسا محسوس ہوا ہاتھ ملا کر اس سے

 





Post a Comment

5 Comments